تحریر (#باباشجردوست )
اتوار31 مئی 2026ء
ایک ہستی جسے ہر دور میں بے پناہ چاہا گیا، جو ہر زمانے میں انسانیت کا سب سے بڑا موضوع رہی، وہ ذاتِ باری تعالیٰ ہے۔ اس کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے درمیان روزِ اول سے ایک کشمکش جاری رہی ہے۔ ربِ کائنات کی ذات ایسی حقیقت ہے جو ٹوٹ کر محبت کرنے کا تقاضا کرتی ہے، اور اس محبت کے مسافر ہر دور میں موجود رہے ہیں۔
جب کسی ایسے شخص کا علم ہو جو رب کے بارے میں ایسی گفتگو کرتا ہو جس سے دل میں محبتِ الٰہی کی مدھم چنگاریاں شعلوں میں بدل جائیں، تو عاشقانِ خدا کا رخ خود بخود اس کی محفل کی طرف ہو جاتا ہے۔ ایسی ہی نابغۂ روزگار شخصیات میں قبلہ سید سرفراز شاہ صاحب کا نام بھی شامل ہے۔
جب موضوع رب کی محبت، اس کے قرب اور اس کے عشق کا ہو اور شاہ صاحب اپنے مخصوص دھیمے اور پُرسوز انداز میں گفتگو شروع کریں تو سننے والا خود کو دنیا و مافیہا سے بے نیاز کسی عظیم بارگاہ کے سامنے کھڑا محسوس کرتا ہے۔ ان کی باتوں میں ایک ایسی تاثیر ہے جو دل کے بند دریچوں کو کھول دیتی ہے اور انسان کو اپنے باطن میں جھانکنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
شاہ صاحب سے میری پہلی آگاہی لاہور کے مشہور انارکلی اتوار بازار میں ہوئی۔ کتابوں کے ایک اسٹال پر میری نظر ایک کتاب پر پڑی جس کا نام “کہے فقیر” تھا۔ چونکہ کتاب سیکنڈ ہینڈ تھی، اس لیے شاید ایک سو روپے میں مل گئی۔ میں اسے خرید کر یونیورسٹی کے ہاسٹل واپس آیا اور ایک ہی رات میں پوری کتاب پڑھ ڈالی۔ یہ دراصل شاہ صاحب کی مختلف گفتگوؤں کا مجموعہ تھی۔ بعد ازاں ان کی گفتگوؤں پر مبنی درجنوں کتب منظرِ عام پر آئیں، مگر یہ پہلی کتاب میرے لیے ایک نئے جہان کا دروازہ ثابت ہوئی۔
کتاب پڑھنے کے بعد دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ اس شخصیت کو براہِ راست دیکھا جائے اور ان کی گفتگو اپنے کانوں سے سنی جائے۔ چنانچہ اپنے گاؤں سے لاہور جانے کا ارادہ کیا۔ اس زمانے میں یوٹیوب کا دور نہیں تھا۔ شاہ صاحب کی ویڈیوز دستیاب نہ تھیں، البتہ ان کی آڈیوز اور تحریری مواد ان کی ویب سائٹ پر موجود تھا۔
ویب سائٹ سے ان کے گھر کا پتہ حاصل کیا۔ معلوم ہوا کہ وہ ہفتے میں صرف ایک دن نشست کرتے ہیں، جہاں تقریباً ایک گھنٹے کی گفتگو فرماتے ہیں اور بعد ازاں حاضرین کے لیے دعا کرتے ہیں۔ چونکہ ان کا گھر محدود گنجائش کا حامل تھا اور آنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی تھی، اس لیے علی الصبح جا کر ٹوکن لینا پڑتا تھا۔
میں بھی صبح سویرے ان کے گھر پہنچ گیا۔ اتنا جلدی پہنچا کہ پہلا آنے والا شخص تھا۔ ٹوکن حاصل کیا اور مقررہ وقت کا انتظار کرنے لگا۔ تقریباً دس بجے شاہ صاحب تشریف لائے۔ مجھے حیرت بھی ہوئی کہ ایک نہایت نفیس، سوٹڈ بوٹڈ اور کلین شیو شخصیت ہال میں داخل ہوئی۔ سلام کے بعد انہوں نے گفتگو کا آغاز کیا۔
یہ گفتگو کسی اور ہی دنیا کی طرف لے جانے والی تھی۔ میرے جیسے دنیا دار آدمی کے لیے اس کے کئی پہلو سمجھنا آسان نہ تھے۔ سالکوں کی باتیں آخر سالک ہی بہتر جانتے ہیں۔ لیکن ان کی بعض باتیں ایسی تھیں جو آج بھی ذہن میں نقش ہیں۔
انہوں نے فرمایا کہ پہلی مرتبہ حرمین شریفین کی زیارت کا موقع ملا تو روانگی سے قبل علما نے بتایا کہ کعبۃ اللہ پر پہلی نظر پڑتے ہی جو دعا مانگی جائے وہ قبول ہوتی ہے۔ شاہ صاحب فرمانے لگے کہ راستے بھر مختلف دعائیں سوچتا رہا کہ یہ مانگوں گا، وہ مانگوں گا۔ مگر جب حرمِ پاک میں داخل ہو کر پہلی بار کعبۃ اللہ پر نظر پڑی تو سب دعائیں بھول گیا۔ دل سے صرف ایک صدا نکلی:
“چھوڑ ساری دنیا، بس تو صرف میرا ہو جا۔”
یہ الفاظ سن کر انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ہم جیسے دنیا دار لوگ پہلی نظر میں کتنی خواہشیں، کتنے مطالبے اور کتنی دعائیں یاد کرتے ہیں، مگر اللہ کے سچے عاشق کو صرف اللہ ہی یاد رہتا ہے۔
شاہ صاحب کی بہت سی باتیں دل میں گھر کر جاتی ہیں۔ وہ فرماتے ہیں:
“رب تک پہنچنے کا آسان ترین راستہ اس کی مخلوق کی خدمت ہے۔”
وہ کہتے ہیں:
“جس دل میں کینہ ہو، اس دل میں رب نہیں بستا۔”
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:
“جس دل میں یہ خواہش ہو کہ لوگ میری تعظیم کریں، میرے احترام میں کھڑے ہوں، اس دل میں بھی رب نہیں بستا۔”
ان کا یہ قول بھی یاد رہنے کے قابل ہے:
“خوش رہنے والا انسان نسبتاً لمبی عمر پاتا ہے۔”
اور یہ کہ:
“جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو اپنا قرب اور دوستی عطا فرمانا چاہتے ہیں تو اس کی زبان پر اپنا ذکر جاری فرما دیتے ہیں۔”
اسی طرح وہ فرماتے ہیں:
“جب ہم دوسروں کو اپنے سے بہتر اور اچھا سمجھتے ہیں تو ہمارے اندر غرور پیدا نہیں ہوتا۔”
گفتگو کے اختتام پر شاہ صاحب ہر آنے والے کو فرداً فرداً ایک الگ کمرے میں بلاتے، اس کی پریشانی سنتے، دعا فرماتے اور اپنے ہاتھ سے کوئی نہ کوئی تحفہ بھی عطا کرتے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ نہ کسی نذرانے کا مطالبہ کرتے اور نہ کسی قسم کی مالی توقع رکھتے۔
مجھے بھی چند لمحے ان کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع ملا۔ انہوں نے دعا فرمائی اور اپنے دستِ مبارک سے ایک میٹھی چیز عنایت کی۔ دعائیں لے کر میں واپس اپنے گاؤں کی طرف روانہ ہو گیا، مگر دل میں ان ملاقاتوں کی خوشبو آج تک محفوظ ہے۔
آج شاہ صاحب کی گفتگو یوٹیوب اور ان کے آفیشل فیس بک پیج پر بآسانی دستیاب ہے۔ جو دوست روحانیت، محبتِ الٰہی، تزکیۂ نفس اور معرفت کے موضوعات سے دلچسپی رکھتے ہیں، انہیں ضرور سننا چاہیے۔ وہ ایسی دنیا کی باتیں کرتے ہیں جہاں دولت، شہرت اور دنیاوی مفادات کی نہیں بلکہ محبت، عشق، وارفتگی، عاجزی اور بندگی کی زبان بولی جاتی ہے۔ ان کی گفتگو میں سالکوں کے لیے معرفت کے موتی اور عام لوگوں کے لیے اصلاحِ نفس کا سامان موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ایسے مردانِ خدا آگاہ کی محفلیں اور خانقاہیں آباد رہیں، جہاں محبتِ الٰہی اور عشقِ رسول ﷺ کے پیاسوں کو روحانی سکون اور قلبی آسودگی نصیب ہوتی رہے۔ آمین